داونگیرے 27؍ مارچ (ایس اونیوز؍آئی این ایس انڈیا)بی جے پی صدر امت شاہ نے آج کرناٹک کی سدارمیا حکومت پر الزام لگایا کہ وہ ہندوؤں کو بانٹنے کی کوشش کر رہی ہے اور ملک میں ’سب سے زیادہ بدعنوان‘حکومتوں میں شامل ہے۔کرناٹک کے دو روزہ دورے پر آئے شاہ نے کہا کہ مذہبی اقلیتی کا درجہ دینے کا ریاستی حکومت کا قدم ہندوؤں کو بانٹنے کی کوشش ہے۔شاہ نے کہاکہ کرناٹک میں (اسمبلی)انتخابات سے ٹھیک پہلے لنگایتوں اور ویرشیووں کے لئے اقلیتی درجے کا اعلان کرکے انہوں نے لنگایتوں اور ویرشیووں، اور دیگر طبقوں کو بانٹنے کی کوشش کی ہے۔اس اقدام پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے سدارمیا حکومت سے پوچھاکہ آپ پانچ سال سے کیا کر رہے تھے؟انہوں نے کہاکہ 2013میں جب آپ کی اپنی (یوپی اے)حکومت مرکز کے اقتدار میں تھی تو انہوں نے اسے مسترد کر دیا تھا۔اس وقت سدارمیا خاموش کیوں تھے؟ یہ ہندوؤں کو بانٹنے کی کوشش ہے۔شاہ نے کہا کہ یہ کمیونٹیز کی بہتری کے لئے اٹھایا گیا قدم نہیں ہے بلکہ بی ایس یدی یورپا کو وزیر اعلی بننے سے روکنے کی سازش ہے۔
یدی یورپا کو لنگایت کمیونٹی کا قدآور لیڈر سمجھا جاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ لنگایت کمیونٹی اسے سمجھتی ہے اور مجھے یقین ہے کہ کرناٹک کے لوگ بیلٹ کے ذریعے اس کا جواب دیں گے۔کرناٹک کابینہ نے حال میں مرکزی حکومت سے سفارش کی ہے کہ لنگایتوں اور ویرشیو لنگایتوں کو مذہبی اقلیتی کا درجہ دیا جائے۔ریاستی حکومت کے اس قدم کو بی جے پی کے ووٹ بینک میں نقب لگانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
شاہ نے الزام لگایا کہ وزیر اعلی سدارمیا نے خانقاہوں اور مندروں کو بھی سرکاری کنٹرول میں لانے کی کوشش کی، لیکن اپوزیشن کی مخالفت کے سبب انہوں نے اپنے قدم پیچھے کھینچ لئے۔بی جے پی صدر نے کہاکہ میں نے پانچ،چھ بار کرناٹک کا دورہ کیا ہے اور لوگوں سے ملنے کے بعد میں کرناٹک کے جذبات کو سمجھ سکا۔انہوں نے کہاکہ کرناٹک کے لوگوں کا خیال ہے کہ وہ (سدارمیا)ہندو مخالف لیڈر ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر کانگریس نے سدارمیا کو نہیں روکا تو پارٹی کو انتخابات میں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔شاہ نے کہاکہ ایک طرف کانگریس صدر تمام طبقوں ہندو،مسلمانوں، سکھوں اور عیسائیوں کو متحد کرنے کی باتیں کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف کرناٹک میں ان کے اپنے وزیر اعلی ہندوؤں کو بانٹنے کی باتیں کر رہے ہیں۔بی جے پی صدر نے کہاکہ میں نے کسی سیاسی پارٹی کے اندر اتنے بڑے اختلافات نہیں دیکھے ہیں۔